بھارت کیخلاف پاکستانی کھلاڑی کس ڈر سے آؤٹ ہوئے؟ سابق آسٹریلوی کپتان نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے پاکستان کی بھارت کے خلاف شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ پاکستانی کھلاڑی بھارت کے خلاف جیتنے کی کوشش میں نہیں بلکہ آؤٹ ہونے کے ڈر سے آؤٹ ہوئے۔
ایک پوڈکاسٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے مائیکل کلارک کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی گیند گرنے سے پہلے یہ دیکھ لیا تھا کہ پاکستان کو اپنے گھر میں ہونے والے اتنے بڑے ایونٹ اور توقعات کا پریشر برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان نے صرف ایک تبدیلی کی وہ بھی فخر زمان کی انجری کی وجہ سے۔ دبئی کی کنڈیشنز اس جگہ سے بالکل الٹ تھیں جہاں وہ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے تھے اور انہوں نے صرف ایک تبدیلی کی۔
مائیکل کلارک نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین نہیں کر سکے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان نے ٹاس جیتا، بیٹنگ کی اور آپ دیکھ سکتے ہیں ان کے شاٹ سلیکشن۔ ان کے کچھ آؤٹ انڈیا کو ہرانے کی کوشش نہیں بلکہ آؤٹ ہونے کے ڈر سے ہوئے۔ آپ انڈیا سے مقابلے کی کوشش نہیں کرتے ہیں آپ انڈیا کو ہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی اننگز کے بعد میچ ختم ہو چکا تھا، پاکستان نے مناسب رن ہی نہیں بنائے۔ انڈیا ہدف کے تعاقب کے لیے آنے سے پہلے ہی جیت چکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی کوشش
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔