Express News:
2026-06-03@08:20:24 GMT

'تینوں فاسٹ بولرز کو خدا حافظ کہنے کا وقت آگیا ہے'

اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT

قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے ناقص کارکردگی پر پاکستانی ٹیم کے تینوں فرنٹ لائن فاسٹ بولرز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

مقامی ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق کپتان محمد حفیظ نے فاسٹ بولرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف کو ٹیم سے باہر نکال دینا چاہیے۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ تینوں فاسٹ بولرز نے ایشیاکپ 2023 کے بعد سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس دوران تینوں کرکٹرز نے ون ڈے ورلڈکپ، ٹی20 ورلڈکپ اور اب چیمپئنز ٹرافی جیسے میگا ایونٹس کھیلے ہیں۔

مزید پڑھیں: احمد شہزاد نے محمد عامر کی طرف اشارہ کرکے انہیں "سرجری" قرار دیدیا

انہوں نے کہا اب یہ تسلیم کرنے کا وقت ہے کہ ٹیلنٹ کے باوجود ان تینوں نے پاکستان کو بڑا ٹورنامنٹ نہیں جتوایا، اب وقت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور دوسرے بولرز جیسے محمد علی، خرم شہزاد، محمد وسیم جونیئر، عاکف جاوید اور میر حمزہ کو موقع دیں۔ 

مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ پاکستان کے باہر ہونے کا ذمہ دار کون؟ رضوان نشانے پر

محمد حفیظ نے کہا کہ نوجوان فاسٹ بولر اپنے مواقعوں کا انتظار کررہے ہیں، وہ بھی مستحق ہیں انکے پاس بھی پاکستانی پاسپورٹ ہے۔

مزید پڑھیں: 'پاکستانی شائقین نے غلط "ہیرو" منتخب کرلیا ہے'

دوسری جانب بابراعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ بابر  گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان کیلئے کھیل رہے ہیں لیکن آج تک ایک میچ میں بھی بھارت کے خلاف قومی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ قومی ٹیم کی برانڈ ویلیو کو بھی بڑا دھچکا لگنےکا امکان

ان کا کہنا تھا کہ بابر کو اب نمبر تین پر مستقل کھلانا چاہیے تاکہ ٹیم کا مڈل آرڈر مضبوط ہو، رضوان، بابر اور سلمان علی آغا مل کے اچھا مڈل آرڈر بن سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فاسٹ بولرز مزید پڑھیں

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان