پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت تحریک انصاف سے باہر ہوچکے ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان نے لوگوں کی پارٹی میں واپسی کے لیے موقع دینے کا کہا ہے، ہم فرداً فرداً موقع دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں شیر افضل کا سلمان اکرم راجہ کو سیکریٹری جنرل ماننے سے انکار، پارٹی میں اجنبی قرار دیدیا

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ پارٹی متحد اور پالیسی بالکل واضح ہے، جو کوئی پارٹی میں آنا چاہتا ہے اسے زبان کو لگام دینا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور عمران خان کی ہدایات کے مطابق خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جنید اکبر پر بھی بانی پی ٹی آئی نے اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے، پنجاب میں ہر روز کوئی نیا واقعہ سامنے آتا ہے، ہم ملک کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عمران خان نے کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر افسردہ ہے، موجودہ حکومت نے کرکٹ کو بھی تباہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے ساتھ پاکستان کے عوام کی وابستگی ہے، اگر ٹیکنیکل معاملات منظور نظر لوگوں کے حوالے کیے جائیں گے تو پھر ایسے ہی ہوگا، جیسے ہو رہا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عمران خان کی جیل میں بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی جارہی، میں اس حوالے سے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا۔

یہ بھی پڑھیں شیر افضل مروت نے سلمان اکرم راجا کو پھر آڑے ہاتھوں لے لیا، شوکاز نوٹس کا جواب جمع

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کو دورہ سندھ کے حوالے سے مکمل تفصیلات بتائی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پارٹی میں واپسی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت عمران خان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پارٹی میں واپسی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت وی نیوز سلمان اکرم راجا نے شیر افضل مروت پی ٹی ا ئی پارٹی میں نے کہاکہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف