پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
ی ٹی آئی کے سابق ممبر قومی اسمبلی طاہر صادق کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے 2 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے میجر (ر) طاہر صادق کو حفاظتی ضمانت دے دی۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ نے پولیس اور تمام متعلقہ ایجنسیوں کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر صادق کو گرفتار کرنے سے روک لیا۔ پی ٹی آئی کے سابق ممبر قومی اسمبلی طاہر صادق کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے 2 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے میجر (ر) طاہر صادق کو حفاظتی ضمانت دے دی۔ عدالت نے خیبرپختونخوا،پنجاب پولیس اور تمام متعلقہ ایجنسیز کو درخواست گزار کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق وہ امریکا میں ہے۔ درخواست گزار امریکا سے واپس آرہے ہیں۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ان پر سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں۔ اس مقدمات کا مقصد ہراساں کرنا ہے۔ درخواست گزار کو حفاظتی ضمانت دی جاتی ہے۔ پشاور،خیبرپختونخوا، پنجاب پولیس اور تمام ایجنسیز درخواست گزار کو گرفتار نہ کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حفاظتی ضمانت درخواست گزار طاہر صادق کو گرفتار عدالت نے کے سابق ٹی آئی
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔