کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو متروکہ املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے متروکہ املاک پر کنٹونمنٹ بورڈ کو پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو نوٹس بھی جاری کر دیا۔
وکیل متروکہ املاک حافظ احسان نے دلائل دیے کہ متروکہ املاک پراپرٹیز وفاقی حکومت کی ملکیت ہیں، وفاقی حکومت پر کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس نہیں لگا سکتا اور آئین واضع ہے وفاقی حکومت کی پراپرٹی پر ٹیکس کوئی دوسرا ادارہ نہیں لگا سکتا۔
عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کو متروکہ وقف املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک کنٹونمنٹ بورڈ کو ٹیکس وصولی سے باز رہنے کا حکم دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس املاک پر
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔