مصطفیٰ قتل: ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے میڈیکل چیک اپ کرانے کی بھی ہدایت کر دی۔
ملزم ارمغان کی جانب سے عابد زمان ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔
ملزم ارمغان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے مسلسل اذیت میں رکھا جا رہا ہے، کھانا نہیں دیا جا رہا، 10 دن سے واش روم نہیں جا سکا ہوں، مجھے پولیس ریمانڈ پر نہ دیا جائے، پولیس والے مجھ پر ہنستے ہیں۔
کراچی کی انسداد منشیات عدالت میں ملزم ارمغان کے خلاف منشیات کے دو کیسز میں چالان پیش کر دیا گیا۔
جس پر عدالت نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے، 10 دن باتھ روم نہ جانے والا انسان کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا کی مخالفت کی۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان نے لڑکی پر تشدد کیا ہے، لڑکی کو تلاش کر لیا ہے، آج بیان ریکارڈ کرنا ہے، گواہان کے 164 کے بیانات قلم بند کرانے ہیں۔
ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ ملزمان یا گواہان کے بیانات قلم بند کرنے سے پہلے ہمیں نوٹس کیا جائے، 4 گھنٹے پولیس مقابلہ چلا، والدہ نے ارمغان کو سرینڈر کرایا ہے، ان کا بیان قلم بند کرایا جائے، ارمغان کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ لڑکی کا ڈی این اے کرانا ہے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ پورے ملک میں سنسنی پھیلی ہوئی ہے، ملزمان سے منی لانڈرنگ اور منشیات اسمگلنگ کی تحقیقات کرنی ہیں، ملزم انتہائی شاطر ہے، انویسٹی گیشن میں تعاون نہیں کر رہا، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔
ملزم ارمغان کے وکیل نے کہا کہ ملزم اگر 164 سے انکار کرتا ہے تو جیل کسٹڈی کر دیا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ جب ملزم اعترافی بیان دیتا ہے تو جیل کسٹڈی ہوتا ہے، جس مجسٹریٹ کے سامنے بیان ہوتا ہے وہ بھی قانونی تقاضے جانتا ہے۔
عدالت نے کمرۂ عدالت میں ملزم ارمغان کو والدین اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم کو والدین سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے، لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شور شرابا ہو تو فوری آگاہ کیا جائے۔
جس کے بعد عدالت نے ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے جسمانی ریمانڈ میں وکیل نے کہا کہ نے کہا کہ ملزم عدالت نے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔