Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:23:10 GMT

عالمی برادری کی جانب سے امریکہ کی غنڈہ گردی پر تنقید

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

عالمی برادری کی جانب سے امریکہ کی غنڈہ گردی پر تنقید

 

بیجنگ :
ٹرمپ انتظامیہ عالمی تجارتی قوانین کے برخلاف میکسیکو کو چین پر محصولات عائد کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کے تحت (سی جی ٹی این) کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق، جواب دہندگان نے میکسیکو کو چین پر محصولات عائد کرنے پر مجبور کرنے پر امریکہ کی شدید مذمت کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے منفی اثرات عالمی تجارتی نظام کو خطرے میں ڈال دیں گے۔
سروے میں 70.

4 فیصد عالمی جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ میکسیکو کا چین پر محصولات عائد کرنے کا منصوبہ بنیادی طور پر امریکہ کی جانب سے ٹیرف کے دباؤ کی وجہ سے ہے۔ 73 فیصد جواب دہندگان نے امریکہ پر تنقید کی کہ وہ دوسرے ممالک پر معاشی جبر کرنے کے لئے محصولات کا استعمال کر رہا ہے ، جس نے بین الاقوامی تجارت میں منفی اثرات کو بڑھا دیا ہے اور تجارتی نظم و نسق اور صنعتی چین کے استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 78.5 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکہ نے میکسیکو کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہونے کے لئے ہمیشہ اقتصادی ذرائع کا استعمال کیا ہے۔ 60 فیصد جواب دہندگان امریکہ اور میکسیکو کے تعلقات کی ترقی کے بارے میں ناامید ہیں۔
یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، عربی، فرانسیسی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے اندرمجموعی طور پر 6,603 غیر ملکی انٹرنیٹ صارفین نے سروے میں حصہ لیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر