مولانا حامد الحق کی نماز جنازہ ادا، والد کے پہلو میں سپردخاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
نوشہرہ: نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک مولانا حامد الحق شہید کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
مولانا حامد الحق کی نماز جنازہ میں سابق امیرجماعت اسلامی سراج الحق، سابق گورنرغلام علی اور دیگر رہنماؤں سمیت دینی مدارس کےعلماء اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی جب کہ مولانا حامد الحق کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تدفین کی گئی ہے۔
مولانا حامد الحق کو ان کے مرحوم والد مولانا سمیع الحق کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے خود کش دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید ہوگئے تھے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمد نے بتایا تھاکہ حملے کا ہدف جامعہ حقانیہ کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ہی تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا حامد الحق
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔