نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور یوروپی یونین کے درمیان دو دہائیوں پرانی اسٹریٹجک شراکت داری فطری ہے، اسکی بنیاد میں اعتماد، جمہوری اقدار پر مشترکہ یقین اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کیلئے مشترکہ عزم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت نے تجارت، ٹکنالوجی، سرمایہ کاری، سبز ترقی، سیکورٹی، ہنرمندی کی ترقی اور موبلیٹی پر یوروپی یونین کے ساتھ تعاون کے فریم ورک کو منظوری دیکر اس سال کے آخر تک بھارت - یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو مکمل کرنے اور ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے نیز انڈیا مڈل ایسٹ یوروپ اکنامک کوریڈور یعنی "آئیمیک" کو آگے لے جانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے کا عزم کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیئر کے درمیان آج یہاں حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ میٹنگ میں یہ فیصلے کئے گئے۔ مودی نے اپنے بیان میں یورپی کمیشن کے صدر اور کالج آف کمشنرس کے ہندوستان کے دورے کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف یوروپی کمیشن کا بھارت کا پہلا دورہ نہیں ہے، بلکہ کسی بھی ایک ملک میں یوروپی کمیشن کی اتنا وسیع رابطہ بھی ہے اور یہ بھی کہ یہ کمیشن کی نئی مدت کے پہلے دوروں میں سے ایک ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور یوروپی یونین کے درمیان دو دہائیوں پرانی اسٹریٹجک شراکت داری فطری ہے، اس کی بنیاد میں اعتماد، جمہوری اقدار پر مشترکہ یقین اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لئے مشترکہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جذبے کے تحت کل اور آج مختلف شعبوں پر مشتمل تقریباً 20 وزارتی سطح کے اجلاس منعقد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقائی اور عالمی امور پر سنجیدہ اور بامقصد بات چیت ہوئی، ہماری شراکت داری کو آگے بڑھانے اور تیز کرنے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ مودی نے کہا کہ تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، گرین گروتھ، سیکورٹی، اسکل ڈویلپمنٹ اور نقل و حرکت پر تعاون کے لئے ایک بلیو پرنٹ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ٹیموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک باہمی طور پر فائدہ مند دو طرفہ آزاد تجارت کا معاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے سرمایہ کاری کے تحفظ اور جی آئی معاہدے پر آگے بڑھنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں، ایک قابل اعتماد اور محفوظ ویلیو چین ہماری مشترکہ ترجیح ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ دفاع اور سلامتی سے متعلق امور پر ہمارا بڑھتا ہوا تعاون باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سائبر سکیورٹی، میری ٹائم سکیورٹی اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے تعاون کے لئے آگے بڑھیں گے، دونوں فریق ہند پیسیفک خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی اہمیت پر متفق ہیں۔ مودی نے کہا "ہم نے آج فیصلہ کیا ہے کہ 2025ء سے آگے ہندوستان-یوروپی یونین کی شراکت داری کے لئے ایک جرات مندانہ اور پُرجوش روڈ میپ تیار کریں گے، اسے اگلی انڈیا-یوروپی یونین سمٹ کے دوران شروع کیا جائے گا"۔ دو طرفہ میٹنگ میں شرکت کے لئے یوروپی کمیشن کے کمشنروں نے ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی سے چلنے والی بس کے ذریعے حیدرآباد ہاؤس کا سفر کیا۔ یہ بس ٹاٹا موٹرز اور انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اپنے دورے کے دوران بھارت کے یو پی آئی ادائیگی کے نظام کے استعمال کو بھی دیکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری مودی نے کہا شراکت داری کمیشن کی کے لئے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر