دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی اسپیکٹرم ہے: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر—فائل فوٹو
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی اسپیکٹرم ہے، اس اسپیکٹرم کی پشت پناہی کچھ مخصوص عناصر کرتے ہیں۔
بہاولپور میں طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جب بھی ریاست اس اسپیکٹرم پر ہاتھ ڈالتی ہے تو ان کے جھوٹے بیانیے سنائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عظیم مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، جب تک قوم خصوصاً نوجوان افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
آرمی چیف نے کہا کہ جو یہ کہتے تھے کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، وہ آج کہاں ہیں؟
آرمی چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان اللّٰہ پاک کا عطاء کردہ ایک انمول تحفہ ہے، پاکستان کو اللّٰہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں کبھی اپنے عقیدے، اسلاف اور معاشرتی اقدار کو نہیں بھولنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے ہم میں سے ہر کسی نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے، بلاوجہ تنقید کے بجائے توجہ اپنی کارکردگی اور فرائض پر مبذول رکھنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آرمی چیف
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔