UrduPoint:
2026-06-03@01:09:22 GMT

امریکہ: یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا حکم جاری

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

امریکہ: یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا حکم جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 مارچ 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو یوکرین کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی تکرار کے چند دن بعد ہوئی ہے۔

زیلنسکی کا یورپ کے ساتھ امن معاہدے کی شرائط طے کرنے کا اعلان

متعدد خبر رساں ایجنسیوں نے وائٹ ہاؤس کے ایک نامعلوم اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ جنگ ​​کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنی امداد کو "روک رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے"۔

.

اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، "صدر ٹرمپ کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے، ان کی توجہ امن پر ہے۔

(جاری ہے)

اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے شراکت داروں کو بھی اس مقصد کے لیے پرعزم ہونا چاہیے۔"

ٹرمپ اور زیلنسکی میں گرما گرمی، کس نے کس کو کیا کہا؟

فاکس نیوز نے ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امداد کی مستقل معطلی کے مترادف نہیں ہے۔

زیلنسکی'امن' نہیں چاہتے، ٹرمپ

قبل ازیں پیر کے روز، ٹرمپ نے زیلنسکی کو یہ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ جنگ کا خاتمہ اب بھی "بہت، بہت دور" ہے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرہ "سب سے برا بیان ہے جو زیلنسکی نے دیا ہے، اور امریکہ اسے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گا!"

ٹرمپ نے کہا، "یہ وہی بات ہے جو میں کہہ رہا تھا، یہ آدمی اس وقت تک امن نہیں چاہتا جب تک کہ اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور یورپ نے، زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں صاف صاف کہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کام نہیں کرسکتے ہیں۔

"

ٹرمپ نے مشورہ دیا ہے کہ اگر یوکرین کے صدر ماسکو کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر راضی نہیں ہوتے ہیں تو زیلنسکی "زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکیں گے"۔

امریکی صدر نے زیلنسکی پر "آمر" ہونے کا الزام بھی لگایا ہے اور متعدد امریکی حکام نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

زیلنسکی نے یوکرین کے 2019 کے صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اگلے صدارتی انتخابات مارچ 2024 میں ہونا تھے لیکن اسے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ یوکرینی قانون مارشل لاء کے تحت قومی انتخابات کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ٹرمپ اور زیلنسکی میں کس بات پر تکرار ہوئی؟

جمعے کو زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا تاکہ یوکرین کی نایاب معدنیات تک امریکہ کو رسائی دینے کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں۔

معاہدے پر طے شدہ دستخط سے پہلے اوول آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کی اس وقت ناراض کردیا جب انہوں نے یہ دلیل دی کہ یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے کسی بھی معاہدے سے قبل سکیورٹی کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ زیلنسکی نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلے بھی معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق یوکرینی وفد کو اس کے بعد وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے لیے کہا گیا اور معدنیات کے معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

کئی یورپی رہنماؤں نے اس تکرار کے بعد یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا، جس سے یورپ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بحث چھڑ گئی ہے۔

اتوار کی شام، یورپی رہنماؤں نے لندن میں ایک سربراہی اجلاس میں یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور یوکرین کی حمایت جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔

ج ا ⁄ ص ز (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دیتے ہوئے کہا زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس یوکرین کے معاہدے پر یوکرین کی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان