UrduPoint:
2026-07-24@01:36:03 GMT

امریکہ: یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا حکم جاری

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

امریکہ: یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا حکم جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 مارچ 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو یوکرین کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی تکرار کے چند دن بعد ہوئی ہے۔

زیلنسکی کا یورپ کے ساتھ امن معاہدے کی شرائط طے کرنے کا اعلان

متعدد خبر رساں ایجنسیوں نے وائٹ ہاؤس کے ایک نامعلوم اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ جنگ ​​کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنی امداد کو "روک رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے"۔

.

اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، "صدر ٹرمپ کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے، ان کی توجہ امن پر ہے۔

(جاری ہے)

اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے شراکت داروں کو بھی اس مقصد کے لیے پرعزم ہونا چاہیے۔"

ٹرمپ اور زیلنسکی میں گرما گرمی، کس نے کس کو کیا کہا؟

فاکس نیوز نے ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امداد کی مستقل معطلی کے مترادف نہیں ہے۔

زیلنسکی'امن' نہیں چاہتے، ٹرمپ

قبل ازیں پیر کے روز، ٹرمپ نے زیلنسکی کو یہ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ جنگ کا خاتمہ اب بھی "بہت، بہت دور" ہے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرہ "سب سے برا بیان ہے جو زیلنسکی نے دیا ہے، اور امریکہ اسے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گا!"

ٹرمپ نے کہا، "یہ وہی بات ہے جو میں کہہ رہا تھا، یہ آدمی اس وقت تک امن نہیں چاہتا جب تک کہ اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور یورپ نے، زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں صاف صاف کہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کام نہیں کرسکتے ہیں۔

"

ٹرمپ نے مشورہ دیا ہے کہ اگر یوکرین کے صدر ماسکو کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر راضی نہیں ہوتے ہیں تو زیلنسکی "زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکیں گے"۔

امریکی صدر نے زیلنسکی پر "آمر" ہونے کا الزام بھی لگایا ہے اور متعدد امریکی حکام نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

زیلنسکی نے یوکرین کے 2019 کے صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اگلے صدارتی انتخابات مارچ 2024 میں ہونا تھے لیکن اسے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ یوکرینی قانون مارشل لاء کے تحت قومی انتخابات کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ٹرمپ اور زیلنسکی میں کس بات پر تکرار ہوئی؟

جمعے کو زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا تاکہ یوکرین کی نایاب معدنیات تک امریکہ کو رسائی دینے کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں۔

معاہدے پر طے شدہ دستخط سے پہلے اوول آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کی اس وقت ناراض کردیا جب انہوں نے یہ دلیل دی کہ یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے کسی بھی معاہدے سے قبل سکیورٹی کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ زیلنسکی نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلے بھی معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق یوکرینی وفد کو اس کے بعد وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے لیے کہا گیا اور معدنیات کے معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔

کئی یورپی رہنماؤں نے اس تکرار کے بعد یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا، جس سے یورپ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بحث چھڑ گئی ہے۔

اتوار کی شام، یورپی رہنماؤں نے لندن میں ایک سربراہی اجلاس میں یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور یوکرین کی حمایت جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔

ج ا ⁄ ص ز (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دیتے ہوئے کہا زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس یوکرین کے معاہدے پر یوکرین کی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل