ایشوریا رائےکیساتھ ناخوشگورا واقعہ، امیتابھ بچن کی نیند اڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ انڈسٹری کی معروف ادکارہ ایشوریا رائے 2003 میں فلم ” خاکی” میں امیتابھ بچن کے ساتھ کام کر رہی تھیں کہ شوٹنگ کے دوران ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئیں۔
بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے 2004 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ خاکی ‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آئے ایک واقعہ کے بارے بتایا، یہ واقعہ 2003 میں پیش آیا جب ایشوریا رائے، امیتابھ بچن اور اکشے کمار فلم “کھاکی” کی شوٹنگ کے لیے ناسک کے قریب موجود تھے۔ ایک سین کی عکس بندی کے دوران، ایشوریا رائے ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئیں، جس سے پوری کاسٹ اور عملہ شدید صدمے میں آ گیا۔
ایک اسٹنٹ مین جو گاڑی چلا رہا تھا، تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہوگئی، اس وقت ایشوریا اور ان کے ساتھی اداکار تشار کپور ایک جگہ بیٹھے تھے جو آتی ہوئی گاڑی سے بے خبر تھے۔ گاڑی ایشوریا کی کرسی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں صورتحال نہایت سنگین ہو گئی۔
اسی لمحے اکشے کمار نے فوری طور پر مداخلت کی، گاڑی کو روکا اور ایشوریا کو وہاں سے نکالا۔ انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ اس حادثے نے فلم انڈسٹری میں کافی ہلچل مچا دی تھی۔
امیتابھ بچن، جو بعد میں ایشوریا رائے کے سسر بنے، نے انکشاف کیا کہ انیل امبانی کے نجی طیارے کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ ایشوریا کو گھر واپس لے جایا جا سکے۔
امیتابھ بچن نے انکشاف کیا کہ حادثے نے ایشوریا رائے کے دماغ پر گہرا اثر چھوڑا، “میں دو راتوں تک سو نہیں سکا۔ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا، اس کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اسے شدید چوٹیں آئیں، گہرے زخم لگے۔ اور میڈیا نے اسے معمولی حادثہ قرار دیا تھا۔
مزیدپڑھیں:شادی کے بعد پہلی بار کھانے میں کیا پکایا؟ کبریٰ خان کے جواب نے مداحوں کے دل جیت لئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایشوریا رائے امیتابھ بچن
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔