ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ انڈسٹری کی معروف ادکارہ ایشوریا رائے 2003 میں فلم ” خاکی” میں امیتابھ بچن کے ساتھ کام کر رہی تھیں کہ شوٹنگ کے دوران ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئیں۔

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے 2004 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ خاکی ‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آئے ایک واقعہ کے بارے بتایا، یہ واقعہ 2003 میں پیش آیا جب ایشوریا رائے، امیتابھ بچن اور اکشے کمار فلم “کھاکی” کی شوٹنگ کے لیے ناسک کے قریب موجود تھے۔ ایک سین کی عکس بندی کے دوران، ایشوریا رائے ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گئیں، جس سے پوری کاسٹ اور عملہ شدید صدمے میں آ گیا۔

ایک اسٹنٹ مین جو گاڑی چلا رہا تھا، تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہوگئی، اس وقت ایشوریا اور ان کے ساتھی اداکار تشار کپور ایک جگہ بیٹھے تھے جو آتی ہوئی گاڑی سے بے خبر تھے۔ گاڑی ایشوریا کی کرسی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں صورتحال نہایت سنگین ہو گئی۔

اسی لمحے اکشے کمار نے فوری طور پر مداخلت کی، گاڑی کو روکا اور ایشوریا کو وہاں سے نکالا۔ انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ اس حادثے نے فلم انڈسٹری میں کافی ہلچل مچا دی تھی۔

امیتابھ بچن، جو بعد میں ایشوریا رائے کے سسر بنے، نے انکشاف کیا کہ انیل امبانی کے نجی طیارے کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ ایشوریا کو گھر واپس لے جایا جا سکے۔

امیتابھ بچن نے انکشاف کیا کہ حادثے نے ایشوریا رائے کے دماغ پر گہرا اثر چھوڑا، “میں دو راتوں تک سو نہیں سکا۔ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا، اس کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اسے شدید چوٹیں آئیں، گہرے زخم لگے۔ اور میڈیا نے اسے معمولی حادثہ قرار دیا تھا۔


مزیدپڑھیں:شادی کے بعد پہلی بار کھانے میں کیا پکایا؟ کبریٰ خان کے جواب نے مداحوں کے دل جیت لئے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایشوریا رائے امیتابھ بچن

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار