اسٹیو اسمتھ بولڈ ہونے کے باوجود بھی آؤٹ نہ ہوئے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
کراچی:
چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ بولڈ ہونے کے باوجود بال بال بچ گئے۔
آئی سی سی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں اسمتھ واضح طور پر آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔
View this post on InstagramA post shared by ICC (@icc)
آسٹریلوی کپتان اس وقت 23 رنز بنا کر وکٹ پر موجود تھے جبکہ ٹیم کے دونوں اوپنرز پویلین لوٹ چکے تھے۔ اسٹیو اسمتھ نے بھارتی اسپنر اکشر پٹیل کے پورے اوور میں کوئی رن نہیں بنایا جبکہ ان کی آخری گیند پر آؤٹ ہوتے ہوتے بچ گئے۔
اکثر پٹیل کی گیند پر اسمتھ نے دفاعی انداز اپنایا تاہم گیند بلے اور پیڈز سے لگ کر وکٹوں پر جا ٹکرائی تاہم خوش قسمتی سے بیلز نہیں گریں جس پر اسمتھ آؤٹ نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں؛ بھارت آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا
سیمی فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اسمتھ نے 96 گیندوں کے عوض 73 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 4 چوکے اور چھکا شامل تھا۔
بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں کینگروز کئی مواقعوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے تھے جبکہ کلدیپ یادیو کو رن آؤٹ کا موقع گنوانے پر ویرات کوہلی اور روہت شرما کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائنل میں
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔