پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں جس کو جو ذمہ داری دی وہ نبھا رہا ہے، تحریک انصاف میں کوئی گروپ بندی نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر کرپشن کے تمام الزامات جھوٹے ہیں، ایسے الزامات لگانے کا مقصد علی امین کو بدنام کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں پی ٹی آئی کی نئی صوبائی قیادت اور نیا علاقائی منظر نامہ

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ علی امین گنڈاپور کی تحریک انصاف کے لیے بہت قربانیاں ہیں، بحیثیت وزیراعلیٰ اور صوبائی پارٹی سربراہ انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور ہر احتجاج میں قیادت کی، اور ملک کی مختلف جیلوں میں قید پارٹی کارکنوں کی مدد کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ علی امین گنڈاپور اپنے صوبے میں عملی طور پر کارکردگی دکھا رہے ہیں، تاہم مریم نواز کی طرح ان کی تصاویر سامنے نہیں آرہیں۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا سرپلس بجٹ دینے والا پہلا صوبہ ہے، صوبائی حکومت عوام کی خدمت کررہی ہے۔

واضح رہے کہ کہ بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی مختلف دھڑوں میں بٹ چکی ہے، اس وقت قیادت وکلا کے ہاتھ میں ہے جس پر سیاسی رہنماؤں کو اختلاف ہے کہ قربانیاں انہوں نے دی ہیں اور اب پارٹی وکلا کے حوالے کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں پارٹی اختلافات کے باعث عمران خان کا سول نافرمانی کی کال خود دینے کا فیصلہ

سلمان اکرم راجا اور شیر افضل مروت کے درمیان ہونے والی لڑائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جس کے نتیجے میں عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل کو پارٹی سے ہی نکال دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی چیئرمین پی ٹی آئی خیبرپختونخوا حکومت سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت علی امین گنڈاپور گروپ بندی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی چیئرمین پی ٹی آئی خیبرپختونخوا حکومت سلمان اکرم راجا شیر افضل مروت علی امین گنڈاپور گروپ بندی وی نیوز علی امین گنڈاپور بیرسٹر گوہر تحریک انصاف پی ٹی آئی انہوں نے نے کہاکہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان