ٹرمپ کا درآمدات پر ٹیکس، امریکا میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
لاہور:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، چین، میکسیکو کی اشیا پر امپورٹ ٹیکس(ٹیرف) لگا کر قومی صنعتوں کو تحفظ دیا ہے مگر امریکا میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امپورٹڈ اشیا مہنگی ہوں گی جن میں پٹرول، خوراک، گھر ، الیکٹرونکس سامان، کاریں، گھریلو چیزیں، الیکٹرک بیٹریاں شامل ہیں۔
امریکا اپنا 75 فیصد سپورٹس سامان و کھلونے چین، 61 فیصد تیل کینیڈا، 56 فیصد الیکٹرک بیٹریاں چین، 56 فیصد جوتے چین، 53 فیصد صنعتی تاریں میکسیکو،45 فیصد سبزیاں، پھل اور اناج کینیڈا ومیکسیکو، 45 فیصد ٹیلی فون و براڈکاسٹنگ اشیا چین، 34 فیصد کمپیوٹر میکسیکو، 30 فیصد لکڑی کینیڈا، 26 فیصد کمپیوٹر میکسیکو اور بیشتر کاریں بیرون ممالک سے منگواتا ہے۔
ممتاز امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ نے اس عمل کو امریکی عوام اور بیرونی ممالک کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘قرار دیا ہے۔
مہنگائی بڑھنے سے امریکی عوام میں ٹرمپ کی مقبولیت گھٹنے کا بھی خدشہ ہے۔پڑوسیوں سے تعلقات الگ خراب ہوئے،امریکہ و کینیڈا تو گہرے دوست سمجھتے جاتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔