کہتے تھے ٹرمپ آئیں گے تو بانی پی ٹی آئی باہر آ جائیں گے، اب وہ ٹرمپ کی تعریف پر ناراض ہیں، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ہمیں خود کو ایک آزاد ملک کے طور پر کھڑا کرنا چاہیے۔ پہلے کچھ لوگ کہتے تھےکہ ٹرمپ آئیں گے تو بانی پی ٹی آئی باہر آ جائیں گے، بدقسمتی ہے ٹرمپ کی جانب سے تعریف پر ایک خوش تو ایک ناراض ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجودہ صورتحال کے ذمہ دار امریکا اور مغربی ممالک ہیں، انہیں پاکستان کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔افغانستان میں صورتحال سے پاکستان نبردآزما ہے یہ ہماری پیدا کردہ نہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف حکومت کو آنکھوں پر کیوں بٹھایا؟
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردی پوری دنیا میں پھیلے گی، پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف کوئی ابہام نہیں۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ قوم ہر روز دہشتگردی کے خلاف جانوں کے نذرانے پیش کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتیں اور دوسرے ادارے ملک کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں۔ مولانافضل الرحمان آئین و قانون کے دائرے میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ حکومت نے کب ڈائیلاگ سے انکار کیا؟ ہم تو کہتے ہیں کہ کسی کو مسائل ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کریں۔
مزید پڑھیں: یوکرین جنگ بند کرانے کے لیے انتھک محنت کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم پیپلزپارٹی کیساتھ اور وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ ملک کو بڑی مشکل سے ڈیفالٹ سے باہر نکالا ہے۔ 1991 کے ریکارڈ کے مطابق ہر صوبے کا پانی مقرر ہے۔ پنجاب اپنے حصے کے علاوہ سندھ کا ایک قطرہ پانی نہیں لیتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی ٹرمپ رانا ثنااللہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی رانا ثنااللہ رانا ثنااللہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔