بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریا نے مشہور گلوکارہ سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریا نے کرناٹک کی مشہور گلوکارہ شیوسری سکند پرساد سے شادی کرلی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلورو ساؤتھ کے ایم پی تیجسوی سوریا نے بنگلورو میں ایک روایتی تقریب میں کرناٹک سے تعلق رکھنے والی معروف گلوکارہ سیواسری سکند پرساد سے شادی کی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں ایم پی تیجسوی سوریا کے ہمراہ دیگر سیاسی لیڈروں کو دکھایا گیا ہے جن میں بی جے پی لیڈران اناملائی، پرتاپ سمہا، امیت مالویہ، بی وائی وجےندرا اور مرکزی وزیر وی سومنا شامل ہیں۔
گلوکارہ نے شادی کے اس خاص دن پر سنہرے رنگ کی روایتی ریشمی ساڑھی اور سونے کے زیورات پہن رکھے ہیں جبکہ سوریا نے سفید رنگ کی دھوتی کے ساتھ سنہرے رنگ کا دولہے کا لباس پہن رکھا ہے۔
یاد رہے کہ بی جے پی ایم پی تیجسوی سوریا دو بار لوک سبھا کے رکن رہ چکے ہیں اور بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے صدر ہیں۔
جبکہ کرناٹک کی گلوکارہ شیوسری سکندا پرساد فلمساز منی رتنم کی فلم فرنچائز ’پونیئن سیلوان‘ میں اپنے گانوں کے لیے مشہور ہیں۔ جس میں ایشوریا رائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت