فارم 47 کا سہارا نہ لیا جاتا تو باپ بیٹی آج دوبارہ لندن میں ہوتے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مارچ2025ء)مشیر اطلاعات پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ فارم 47 کا سہارا نہ لیا جاتا تو باپ بیٹی آج دوبارہ لندن میں ہوتے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب سے خیبر پختون خوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ شائع ہوئی ہے تب سے مخالفین کی چیخیں نکل رہی ہیں اور جعلی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، مخالفین ہماری کارکردگی رپورٹ پر بے جا تنقید کرکے خود کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ چور حکومتوں کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں، اسی لیے وہ خیبر پختونخوا کی کارکردگی رپورٹ پر تنقید کر رہے ہیں،یہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اخبارات میں اپنی تصاویر کی نمائش کر رہے ہیں، اگران کی کوئی کارکردگی ہوتی تو انہیں فارم 47 کے ذریعے حکومت نہ بنانی پڑتی۔(جاری ہے)
بیرسٹر سیف نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر خیبر پختونخوا میں تیسری بار حکومت میں آئی ہے، اپنی ناقص کارکردگی کے باعث نواز شریف اور مریم نواز اپنی نشستیں ہار چکے تھے،اگر فارم 47 کا سہارا نہ لیا جاتا تو آج باپ بیٹی دوبارہ لندن میں ہوتے۔
صوبائی مشیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ منصوبہ مخالفین کو کھٹک رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر دیگر صوبے بھی صحت کارڈ منصوبہ متعارف کرائیں۔ مخالفین اشتہارات کے بجائے حقیقی عوامی فلاحی منصوبے شروع کریں۔ حقیقی کارکردگی خود بولتی ہے، اسے لمبے لمبے اشتہارات کی ضرورت نہیں پڑتی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ فارم 47
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔