گورنر سندھ کا کراچی میں میٹا کا دفتر کھولنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کراچی میں ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی میٹا کا دفتر کھولنے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے ’’میٹا‘‘ کے وفد نے گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کی۔
گورنر ہاؤس آمد پر کامران خان ٹیسوری نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے لیکن یہاں میٹا کا کوئی دفتر موجود نہیں جبکہ کراچی جیسے تین کروڑ آبادی والے شہر میں میٹا کا پہلا دفتر قائم ہونا وقت کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں نوجوانوں کی تربیت، آئی ٹی شعبے کی ترقی اور باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹا کے ڈائریکٹر نے گورنر انیشیٹیوز کے تحت جاری جدید آئی ٹی کورسز کی مفت فراہمی کو قابلِ تقلید اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔
وفد نے گورنر ہاؤس میں قائم آئی ٹی مارکی کا دورہ کیا اور طلبہ و طالبات سے ملاقات کے دوران ان کے جذبے اور سیکھنے کے شوق کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں اس وقت 50 ہزار سے زائد نوجوان جدید آئی ٹی کورسز مفت حاصل کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ نے میٹا کو مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت طلبہ و اساتذہ کی تربیت کا باقاعدہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا فروغ ناگزیر ہے اور گورنر انیشیٹیوز کے ذریعے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔
کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ ہمارا ہدف آئی ٹی ایکسپورٹس کو 40 ملین ڈالر سے بڑھا کر 40 بلین ڈالر تک پہنچانا ہے، تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ میٹا نوجوانوں کے روشن مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔گورنر سندھ نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران تمام سفیروں، سفارت کاروں اور تاجروں کو گورنر ہاؤس میں طلبہ سے ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ نوجوانوں کے اعتماد اور حوصلے میں اضافہ ہو۔ “وہ دن دور نہیں جب ہمارا نوجوان ہزاروں ڈالرز کما رہا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ گورنر ہاؤس نے کہا کہ میٹا کا آئی ٹی
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔