چیمپئنز ٹرافی کا تاج کس کے سر سجے گا؟ فیصلہ کن معرکہ آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
دبئی (نیوز ڈیسک) آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فیصلہ کن معرکے میں آج بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان جوڑ پڑے گا۔
نیوزی لینڈ اور بھارت چمچماتی ٹرافی ہاتھوں میں اٹھانے کیلیے بے تاب ہیں،25سال بعد نیوزی لینڈ اور بھارت چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ٹکرائیں گے، شائقین کرکٹ کو بڑے مقابلے کا بڑی بے صبری سے انتظار ہے۔
دونوں ٹیمیں فائنل میں آج دوپہر 2بجے دبئی میں آمنے سامنے ہوں گی ، دونوں ٹیموں نے بڑے میچ سے قبل دبئی سٹیڈیم میں جم کر ٹریننگ بھی کی۔
نیوزی لینڈ نے2000 میں چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو شکست دی تھی، 2002 میں ہونیوالی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت اور سری لنکا کو مشترکہ چیمپئن قرار دیا گیا تھا جس کے بعد بھارت نے 2013 میں انگلینڈ کو شکست دے کریہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 2017 میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں 180 رنز سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔
بھارتی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شبمن گل نے فائنل ٹاکرے سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دبئی کنڈیشن سے واقف ہیں، پچ ویسی ہی ہوگی، کوشش ہوگی فائنل میں بھی اچھا کھیل پیش کریں، پوری ٹیم کے اندر بہترین ہم آہنگی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بڑے میچ کا دباؤ ہمیشہ رہتا ہے لیکن تجربہ کار کھلاڑی دباؤ سے نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں، آسٹریلیا کا باؤلنگ اٹیک زیادہ مضبوط نہیں تھا لیکن بھارتی ٹیم نے سیمی فائنل کے دباؤ میں وکٹیں گنوائی تھیں۔
دوسری جانب کیوی بلے باز ول ینگ نے کہا ہے کہ ہم گروپ میچ میں ملنے والے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے، اب زیادہ سنبھل کر حریف باؤلرز کا سامنا کریں گے،ہمارے باؤلرز بھی اب بھارتی بیٹرز کے خلاف نئی حکمت عملی سے میدان میدان میں اتریں گے۔
کیوی کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ بھارت کو اپنے تمام میچز دبئی میں کھیلنے کا ایڈوانٹیج حاصل ہوگا، کنڈیشنز ان کیلئے تھوڑی موزوں ہوسکتی ہیں مگر ہم اچھے کھیل سے کامیابی کیلئے پر اعتماد ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی نیوزی لینڈ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔