ایشیا ء کپ: سپر فور مرحلے میں پاکستان کا بھارت سے مقابلہ کب اور کہاں ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ایشیا ء کپ: سپر فور مرحلے میں پاکستان کا بھارت سے مقابلہ کب اور کہاں ہوگا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 September, 2025 سب نیوز
دبئی(سب نیوز )ایشیا کپ ٹی 20 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک بار پھر 21 ستمبر بروز اتوار کو دبئی میں ٹکرائیں گی۔گزشتہ روز پاکستان نے دبئی کے میدان میں بیٹنگ کے دبا اور میدان سے باہر پیش آنے والی مشکلات پر قابو پاتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو 41 رنز سے شکست دے کر ایشیا کپ کے سپر 4 مرحلے میں جگہ بنا لی۔
بدھ کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ پہلے غیر یقینی کا شکار رہنے کے بعد ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز بنائے، جس کے جواب میں یو اے ای کی پوری ٹیم 17.
کپتان آغا سلمان نے 20 رنز جوڑے جب کہ آخر میں شاہین شاہ آفریدی کی 14 گیندوں پر 29 رنز کی تیز رفتار اننگز نے پاکستان کو قابل دفاع مجموعے تک پہنچا دیا۔بولنگ میں حارث رف، شاہین شاہ آفریدی اورابرار احمد نے دو دو کھلاڑیوں کو آٹ کیا۔
خاص طور پر حارث رف نے 14ویں اوور میں دھروو پرشار کو آٹ کیا جس کے بعد یو اے ای کے بیٹرز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے گئے۔یو اے ای کی جانب سے راہول چوپڑا نے 35 گیندوں پر 35 اور دھروو پرشار نے 23 گیندوں پر 20 رنز بنائے اور 48 رنز کی شراکت قائم کی لیکن وہ ٹیم کو فتح کی منزل تک نہ لے جا سکے۔
اس کامیابی کے ساتھ پاکستان گروپ اے سے دوسرے نمبر پر سپر 4 میں داخل ہوگیا، جہاں اتوار کو اس کا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔گروپ بی سے تاحال صرف سری لنکا نے کوالیفائی کیا ہے جبکہ بنگلہ دیش اور افغانستان کے درمیان دوسرا کوالیفائر طے ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی، پاکستانی سٹریٹجک معاہدے کی اہمیت، عرب صحافت کی نظر میں سعودی، پاکستانی سٹریٹجک معاہدے کی اہمیت، عرب صحافت کی نظر میں ٹرمپ کا دورہ لندن؛ برطانیہ اور امریکا کا کاروباری شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق اسرائیل سے خطرات،عرب ممالک متحرک،اہم سیکیورٹی اقدامات کا اعلان,مشترکہ فضائی نظام،خلیج دفاعی اتحاد کی تشکیل شامل پاک-سعودیہ دفاعی معاہدہ: سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، 100 انڈیکس تاریخی سطح پر پہنچ گیا نومئی مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 18 پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار یمن کے ساحل پر پانچ انٹرنیٹ کیبلز کٹ گئیں جس کی وجہ سے ملکی انٹرنیٹ متاثر ہے، سیکریٹری آئی ٹیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مرحلے میں
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب