بلوچستان میں شہید عالم دین نے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرایا تھا، بھارتی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں شہید عالم دین مفتی شاہ میر بزنجو نے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرایا تھا۔
یہی دعویٰ بھارت کے این ڈی ٹی وی نے بھی کیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مفتی شاہ میر نے کل بھوشن یادیو کی گرفتاری میں پاکستان کی آئی ایس آئی کی مدد کی تھی۔
ان ذرائع ابلاغ نے بھارت کے پرانے موقف کو اگے بڑھاتے ہوئے دعوی کیا کلبوشن یادیو کو ایران سے اغوا کر کے لایا گیا تھا اور اس کام میں مفتی شاہ میر نے مدد کی تھی۔
مفتی شاہ میر بلوچستان کے ایک معروف دینی عالم تھے، ان پرماضی میں بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جس میں وہ معجزانہ طور پر بچ گئے۔
تاہم وہ جمعہ کی رات نمازعشاء کے تربت کی ایک مقامی مسجد سے نکلتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کے حملے کا شکار ہوئے۔ انہیں قریب سے متعدد گولیاں ماری گئیں اور وہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ٹائمز آف انڈیا نے ہرزہ سرائی کی کہ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مفتی شاہ میر اسلحہ اور انسانی اسمگلنگ کا کاروبار کرتے تھے۔
این ڈ ی ٹی وی کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے الزام عائد کیا کہ شہید شاہ میرکے پاکستان ایجنسی آئی ایس آئی سے خفیہ رابطے تھے۔
بھارتی میڈیا نے یہ دعوی بھی کیا کہ شاہ میر عسکریت پسندوں کو بھارت میں داخل ہونے میں مدد بھی فراہم کرتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مفتی شاہ میر
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔