پنجاب پولیس نے کے پی سرحد پر 24 گھنٹوں میں دہشتگردوں کا دوسرا حملہ پسپا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
آئی جی پنجاب کا اپنے ایک پیغام میں کہنا تھا کہ پنجاب پولیس ڈیرہ غازی خان کے بہادر سپوت خوارجی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل لڑ رہے ہیں اور دشمن کو پنجاب میں داخل نہیں ہونے دے رہے، پولیس کا ہر جوان سینہ تان کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب پولیس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سرحد پر خوارجی دہشت گردوں کا ایک اور حملہ پسپا کر دیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق پنجاب پولیس نے سرحدی چوکی لکھانی پر خوارجی دہشت گردوں کے مزید ایک حملے کو ناکام بنا دیا، گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا جبکہ رواں ہفتے میں تیسرا بڑا حملہ پسپا کیا گیا۔ ترجمان کی جانب سے بتایا گیا کہ خوارجی دہشت گردوں کی تعداد 20 سے 25 تھی جو بھاری اسلحے سے لیس تھے، دہشت گردوں نے راکٹ لانچرز اور دیگر جدید اسلحے کے ساتھ لکھانی چوکی پر حملہ کیا۔
پولیس کی جانب سے تھرمل امیج کیمروں سے دہشت گردوں کی بروقت نشاندہی کی گئی اور جوابی کارروائی سے دہشت گرد پسپائی اختیار کر گئے، دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے آپریشن کی مکمل کمانڈ کی جبکہ ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کی زیر کمانڈ کیو آر ایف ٹیموں نے بروقت کارروائی کی۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ خوارجی دہشت گرد بزدلانہ حملوں سے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، پنجاب پولیس ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔
آر پی او نے کہا کہ پولیس فورس کا مورال بلند، دہشت گردوں کا ہر حملہ ناکام بنایا جائے گا، دہشت گردوں کا ہر طرح سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس حوالے سے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پنجاب پولیس ڈیرہ غازی خان کے بہادر سپوت خوارجی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل لڑ رہے ہیں اور دشمن کو پنجاب میں داخل نہیں ہونے دے رہے، پولیس کا ہر جوان سینہ تان کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دشمن کو ان کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، خیبر پختونخوا سرحد پر ہماری فورس ہر لمحہ چوکس ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خوارجی دہشت گردوں ڈیرہ غازی خان دہشت گردوں کا پنجاب پولیس
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔