یوٹیلٹی اسٹورز کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنا تھا، عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہورہا تھا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
یوٹیلٹی اسٹورز کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنا تھا، عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہورہا تھا، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 10 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان 2025 کے مانیٹرنگ نظام کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل ٹیلی کام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، اس دوران انہیں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے رمضان المبارک کے دوران فی خاندان 5 ہزار روپے ادائیگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں مستحقین کے لیے جامع اور شاندار پروگرام قابل تعریف ہے، آپ سب نے مل کر چیلنج قبول کیا اور بہت بڑا کام کر دکھایا، ہم نے یوٹیلٹی اسٹورز کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا تھا، عوام کا پیسہ تھا جو کرپشن کی نذر ہورہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار 20 ارب روپے کا رمضان پیکیج ڈیجیٹل والٹ سے مستحقین کو دیا جارہا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل والٹ کے دائرہ کار کو مزید توسیع دی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہے، ڈیجیٹل والٹ کے جدید نظام سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا، یوٹیلیٹی اسٹورز کی کرپشن زبان زد عام تھیں، کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والوں کی مدد کرنا نیک کام ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کے تحت 39 لاکھ خاندانوں کو نقد رقم دی جارہی ہے، مجوزہ پیکیج کے تحت فی مستحق خاندان کے لیے ایک بار 5 ہزار روپے کی نقد مالی امداد دی جارہی ہے۔
وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کےبجٹ کا تخمینہ 20 ارب 50 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، اس بار وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے فراہم نہیں کیا جارہا۔
خیال رہے کہ رمضان ریلیف پیکیج کے لیے 2 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ سے دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جب کہ وزارت خزانہ وزیر اعظم رمضان ریلیف پیکیج کے لیے 8 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کرچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔