جعفر ایکسپریس یرغمال؛ ڈھاڈر میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی نگرانی پروازیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
سٹی42: بلوچستان میں ڈھاڈر کے علاقہ میں مسافروں سے بھری ٹرین جعفر ایکسپریس کو ایک سرنگ میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لئے جانے کی سنگین دہشتگردی کے بعد علاقہ مین سکیورٹی فورسز کا ریسکیو آپریشن ہنوز جاری ہے۔
کوئٹہ سے کئی ہیلی کاپٹروں کی درہ بولان کے علاقہ میں بھیجا گیا جو اس علاقہ میں فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ کوئٹہ سے درہ بولان کی جانب ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جا ری ہیں اور ممکنہ طور پر دشوار گزار علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی، اور ٹرین مین موجود دہشتگردوں کو باہر سے کسی ممکنہ مدد یا کمک ملنے کے عمل کو روکنے کے لئے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
قومی کرکٹر حارث رؤف نے نومولود بیٹے کے ساتھ تصویر شیئر کی اور نام بھی بتا دیا
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔