پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح بڑھانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت دہری شہریت والے افراد کو کلیدی عہدوں پر فائز رہنے کی اجازت دینے اور کاربن اخراج کم کرنے کیلیے کاربن لیوی لگانے کے حوالے سے فیصلہ نہ کرسکی اور گزشتہ روز دو الگ الگ اجلاسوں کے دوران ان معاملات پر فیصلوں کو مؤخر کر دیا گیا۔
ایک اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف اور دوسرے کی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مسلسل تیسری بار سٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنرز اور ڈائریکٹرز کے عہدے پر دہری شہریت رکھنے والوں کو رہنے کی اجازت دینے کی سمری مؤخر کردی۔
کابینہ کے اجلاس سے چند گھنٹے قبل اسحاق ڈار نے کاربن لیوی سے متعلق غیر نتیجہ خیز اجلاس کی صدارت کی۔ اہم حکومتی عہدیداروں نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں آنے والی کچھ کمی کو روکنے کیلئے پٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح 60 روپے کو قلیل مدت کیلئے بڑھانے کی تجویز ہے۔
قانون پٹرولیم لیوی 70 روپے لٹر تک بڑھانے کی اجازت دیتا ہے۔ لیوی کی شرح میں 10 روپے کا اضافہ حکومت کے لیے ماہانہ 15 ارب روپے اضافی پیدا کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے تین سالوں میں10 روپے فی لٹر کاربن لیوی متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ہے، جس کا آغاز پہلے سال 3 روپے فی لٹر سے ہوگا۔
یہ تجویز آئی ایم ایف کی نئی تقریباً 1 بلین ڈالر کی کلائمیٹ ریزیلینس سہولت کیلئے شرط کا حصہ ہے جس پر ابھی بات چیت جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت بیک وقت کاربن لیوی متعارف کرانے اور پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافے کی دونوں تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے پیر کو کاربن لیوی اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اجلاس کی صدارت کی تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے معاملہ اسحاق ڈار کو بھجوایا جنہوں نے منگل کو ایک اجلاس کی صدارت کی تاہم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال کے سوال پر اختلاف رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اجلاس کی صدارت کاربن لیوی لیوی کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔