دہشتگردوں کا کوئی دین مذہب نہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کیساتھ ہیں، زرتاج گل وزیر
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
دہشتگردوں کا کوئی دین مذہب نہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کیساتھ ہیں، زرتاج گل وزیر WhatsAppFacebookTwitter 0 12 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی رہنما زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین مذہب نہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔
ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں، دہشتگردی ایک ناسور ہے اور دہشتگرد کا کوئی مذہب کوئی دین نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کے خلاف اکٹھے ہوں، ہم اپنے عام شہریوں، سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی بہت نعشیں اٹھا چکے ہیں، یہ حکومت بہت ہی نکمی ہے، وزیروں مشیروں کی فوج ایسے اکٹھی کی ہوئی ہے جیسے ریوڑیاں بٹ رہی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر، وزیراعظم اور ان کے وزرا فارم 47 کی پیداوار ہیں، صدر کی تقریر کا کسی کو کوئی پتا نہیں تھا، اس کی تحریر بعد میں دی گئی ہے، لکھی تقریر میں معاشی اشاریے والی لائنوں پر وائٹ فلوٹ لگایا گیا ہے، خطاب میں صدر نے صرف سندھ کے پانی کی بات کی، ملک کی کوئی بات نہیں کی گئی، پانی کا مسئلہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، سب کو اکٹھے بٹھائیں اور تقسیم برابر ہو تاکہ لڑائی نہ ہو۔زرتاج گل نے کہا کہ نورین آپا، علیمہ آپا اور بشری بی بی سب ہمارے لئے قابل احترام ہیں، علیمہ آپا ہمیں کوئی نصیحت کرتی ہیں تو ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر اس وقت جیل بیٹھا ہے، قید کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے، بانی پی ٹی آئی ڈیل کر کے باہر نہیں گیا، اس تحریک میں عمران خان کی بہنیں، اہلیہ اور وکلا ان کے ساتھ ہیں کھڑے ہیں، میڈیا میں کچھ خبریں آ جاتی ہیں جن کے سورس کا علم نہیں ہوتا، ایسی خبریں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہم اپنی سکیورٹی فورسز زرتاج گل کوئی دین کا کوئی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔