واشنگٹن(اںٹرنیشنل‌ڈیسک)پاکستانی امریکی طالبہ عمارہ خان نے کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے کی پیشکش احتجاجاً ٹھکرا دی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے کی پیشکش ٹھکرانے والی عمارہ نے جوابی ای میل میں کہا آپ طلبہ کے آزادی اظہار کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں، اقدار کو فروغ دینے کا دعوی منافقانہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عمارہ خان کی یونیورسٹی انتظامیہ کو جوابی ای میل میں کہا گیا کہ حالیہ واقعات کی روشنی میں کولمبیا یونیورسٹی کا اختلاف اور شمولیت کی اقدار کو فروغ دینے کا دعویٰ منافقانہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ برادری کی آوازوں کو تحفظ دینے میں ناکامی یونیورسٹی کے قول و فعل میں تضاد کی علامت ہے۔

طالبہ نے اپنی ای میل میں مزید لکھا کہ ایک ایسی یونیورسٹی جو تنقیدی سوچ اور آزاد مکالمے کو فروغ دینے کی دعوے دار ہو، اسے انصاف کی خاطر محنت کرنے والوں کو خاموش نہیں کرانا چاہیے۔

پاکستانی طالبہ نے کہا کہ ایک باضمیر مسلمان امریکی ہونے کی حیثیت سے میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کا انتخاب نہیں کرسکتی جہاں فکری آزادی پر اربابِ اختیار کو خوش کرنے کو ترجیح دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق طالبہ کے والد عمیر خان نے سوشل میڈیا پر بیٹی کو ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کا فیصلہ بالکل درست ہے۔
مزیدپڑھیں:سونے کی فی تولہ قیمت میں ہوشربا اضافہ ،ہزاروں روپے کا اضافہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کولمبیا یونیورسٹی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج