پاکستان کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار کون؟ سابق ہیڈکوچ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق ہیڈکوچ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ کی تباہی کے ذمہ داروں سے پردہ اٹھادیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق پاکستانی کوچ جیسن گلیسپی نے کچھ روز قبل عاقب جاوید کو مسخرہ قرار دیتے ہوئے انھیں اپنے ذمہ داری سے الگ ہونے کی وجہ قرار دیا تھا، اب ایک اور سابق کوچ مکی آرتھر نے بھی ان کی تائید کردی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے، وہ خود ہی اپنی بدترین دشمن ہے، وہاں پر کرکٹ کو ایجنڈوں کے تحت چلایا جاتا، جیسن گلیسی اور گیری کرسٹن ان کی کرکٹ کو آگے لے جاسکتے تھے اس لیے انھیں ہٹادیا گیا۔
مزید پڑھیں: سابق ہیڈکوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید کو "جوکر" قرار دیدیا
سابق ہیڈکوچ مکی آرتھر نے کہا کہ گلیسپی ایک حیران کن کوچ اور انسان ہیں، پاکستان کرکٹ بدستور اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماررہی ہے، وہ اپنی سب سے بدتر دشمن ہے، پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں بہترین کھلاڑی موجود ہیں، انھیں اب وسائل بھی دستیاب ہیں، بے تحاشا نوجوان ٹیلٹ اور انتہائی بہترین اسکلز ہیں ، اس کے باوجود وہ افراتفری کا شکار ہیں، یہ صورتحال واقعی ہی افسوسناک ہے۔
مزید پڑھیں: رضوان کی کپتانی "فراری سے رکشے" پر آگئی ہے
مکی آرتھر نے مزید کہا کہ پاکستان نے بہترین کوچز کی خدمات حاصل کرلی تھیں جو انھیں آگے لے جاسکتے تھے لیکن اس کے بعد وہ مشینری حرکت میں آگئی جوپاکستان میں چیزوں کو کمزور کرتی ہے
گزشتہ برس پی سی بی نے گلیسپی اور کرسٹن کو بالترتیب ریڈ اور وائٹ بال ٹیموں کی کوچنگ سونپی تھی، دونوں نے ٹیم سلیکشن میں اختیار ختم ہونے کے بعد ذمہ داری چھوڑ دی تھی۔
مزید پڑھیں: "ہم ڈی ٹیموں کو بھی شکست دینے کے قابل نہیں رہے"
خیال رہے کہ مکی آرتھر نے 2016 سے 2019 تک پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کے فرائض نبھائے تھے، اس دوران پاکستان انکی کوچنگ اور سرفراز احمد کی قیادت میں چیمپئینز ٹرافی اپنے نام کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مکی ا رتھر نے سابق ہیڈکوچ
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔