بی جے پی حکومت کیجانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
پون کھیڑا نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں چھ بار ہولی اور جمعہ ایک ساتھ آئے اور ہمیشہ پُرامن طریقے سے منائے گئے لیکن آج بی جے پی کو یہ تہوار خطرے میں نظر آرہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر پون کھیڑا نے ہولی کے موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مبینہ اقدامات پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ہولی کسی ایک رنگ کا نہیں بلکہ تمام رنگوں اور محبت کا تہوار ہے، لیکن ایک منتخب وزیراعلٰی کی جانب سے ایک پولیس افسر کی "سڑک چھاپ" سوچ کو فروغ دینا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں چھ بار ہولی اور جمعہ ایک ساتھ آئے اور ہمیشہ پُرامن طریقے سے منائے گئے، مگر اس بار فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغلوں سے لے کر انگریزوں تک اور آزادی کے بعد گزشتہ 75 برسوں میں ہولی ہمیشہ جوش و خروش سے منائی جاتی رہی، مگر آج خود کو ہندوؤں کا نمائندہ کہنے والوں کی حکومت میں یہ تہوار خطرے میں نظر آ رہا ہے۔
پون کھیڑا نے کہا کہ حکومت کے بعض افسران کی جانب سے مسلمانوں کو ہولی کے روز گھروں سے باہر نہ نکلنے کی وارننگ دی جا رہی ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کل ہندوؤں کو بھی عید کے دن گھروں میں رہنے کی ہدایت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی تقسیم کرنے والی سازش ہے، مگر ہندوستان کی گہری تہذیبی جڑیں ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پورے جوش و خروش سے ہولی منائیں اور کسی پر زبردستی نہ کریں، چاہے وہ خواتین ہوں، ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
الجولانی کیجانب سے قابض اسرائیلی رژیم کیساتھ دوستانہ تعلقات کا پہلا اشارہ
جہاں ایکطرف خطے بھر میں غاصب صیہونی رژیم کے منحوس اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے علاقائی کوششیں جاری ہیں، وہیں خبر رساں ذرائع نے غاصب اسرائیلی رژیم کیساتھ "دوستانہ تعلقات" کی استواری پر مبنی شامی باغیوں کی تگ و دو سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے! اسلام ٹائمز۔ امریکی رکن کانگریس مارلین اسٹٹزمین (Marlin Stutzman) نے غاصب اسرائیلی رژیم کے ٹیلیویژن چینل I24 کو بتایا ہے کہ شامی باغی رہنما ابو محمد الجولانی نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے لئے معاہدے میں شامل ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی رکن کانگریس نے جاری ہفتے ہی شامی باغی رہنما محمد الجولانی کے ساتھ ملاقات کے لئے ایک دوسرے امریکی پارلیمنٹیرین کوری ملز (Cory Mills) کے ہمراہ دمشق کا دورہ بھی کیا تھا۔
اس بارے کوری ملز کا نیویارک ٹائمز کو بتانا تھا کہ میں ابو محمد الجولانی کا پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچاؤں گا۔ آئی 24 کے مطابق، غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے بدلے الجولانی نے شام پر ہونے والے جارحانہ اسرائیلی حملوں کو بند کرنے اور ملک کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے! I24 نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ شامی باغی رہنما نے شامی سرزمین پر غاصب اسرائیلی فوج کی عدم موجودگی پر تل ابیب کے ساتھ معاہدے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی چینل کا مزید کہنا ہے کہ شامی باغی رہنما نے امریکہ سے، شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن مارلین اسٹٹزمین کے مطابق، واشنگٹن نے مذکورہ پابندیاں ہٹانے کے لئے شرائط رکھی ہیں کہ جن میں اسرائیل و امریکہ سمیت مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی "اچھے تعلقات" قائم کرنا بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر سٹور کے ساتھ ملاقات کے دوران دعوی کیا تھا کہ بہت سے ممالک (غاصب اسرائیلی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری پر مبنی) "ابراہم معاہدے" میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور ہم جلد ہی ایسا کر دیں گے!!