اسلام آباد: کال سینٹر پر چھاپہ مارنے والی ایف آئی اے کی ٹیم پر فائرنگ، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم نے کال سینٹر پر چھاپہ مار کارروائی کی، اس دوران کال سینٹر سے ایف آئی اے ٹیم پر فائرنگ کردی گئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ چھاپے کے دوران شدید فائرنگ کے بعد ایف آئی اے اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی، اور کال سینٹر کے عملے کی گرفتار کرلیا گیا۔
کال سینٹر کے عملے نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے ٹیم مبینہ طور پر رشوت کا تقاضہ کیا، اور رشوت نہ دینے پر چھاپہ مار دیا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹر چلائے جانے کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا تو ایف آئی اے پر فائرنگ کی گئی، تاہم ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے کال سینٹر پر چھاپہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ