ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل کرنے کی نیت نہیں تھی، اداکارہ نادیہ حسین
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین نے ایف آئی اے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پیسے مانگے گئے اور وہ چاہتی ہیں کہ جعلسازوں کے خلاف موثر کارروائی ہو اور انہیں پکڑا جائے۔
نادیہ حسین نے کہا کہ جعلسازوں نے تمام کالز واٹس ایپ پر کی ہیں اس لیے انہیں علم نہیں ہے کہ وہ کیسے پکڑے جائیں گے۔
اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نعمان صدیقی کو اگر میری کسی ویڈیو یا پوسٹ سے لگا کہ ان کی تذلیل کی گئی ہے یا ان کی عزت میں کمی آئی ہے تو ایسا نہیں تھا، نہ ہی میری ڈائریکٹر ایف آئی اے کی تذلیل کرنے کی نیت تھی۔
نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ میری ہمیشہ سے کوشش تھی کہ جعلسازی کو سامنے لاؤں، اس طرح کے جعل سازوں کو آزاد نہیں رہنا چاہے اور قانون کی گرفت میں آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائبرکرائم ڈیپارٹمنٹ نے تاحال فرانزک مکمل نہیں کی، میرا فون ابھی بھی ان کے پاس ہے۔ اور میں مزید تعاون کے لیے بھی تیار ہوں کیونکہ میرا کسی کی دل آزاری کا مقصد نہیں تھا۔
اداکارہ نے کہا کہ اداروں کو اورمجھے مل کر آگاہی پیغام کی ویڈیو بنانی چاہیے، کیونکہ اگر کسی کو ایسی جعلسازکالزآتی ہیں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور اگر کسی کے ساتھ ایسی صورتحال پیش آئے اور اسے لگے کہ یہ جعلی کالز ہیں تو فوری طور پر ایف آئی اے میں رپورٹ کریں اور ڈریں مت۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں سائبر کرائم کے پورٹل پر شکایت درج کراچکی تھی لیکن ایف آئی اے دفتر آنے کا مجھے معلوم نہیں تھا۔
واضح رہے کہ نادیہ حسین کو آج ایف آئی اے کی جانب سے طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 14 مارچ کو ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کی ٹیم نے اداکارہ نادیہ حسین کا موبائل فون ضبط کر لیا تھا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ جس شخص نے ایف آئی اے افسر بن کر نادیہ حسین سے بات کی اور ان سے رشوت مانگی موبائل فون سے اس کا پتہ لگایا جائے گا۔
یاد رہے کہ چند دن قبل اداکارہ نادیہ حسین نے سوشل میڈیا پر چند آڈیوز اور ویڈیوز شیئر کی تھیں جس میں انہوں نے بتایا کہ تھا کہ ان کے شوہر کی رہائی کے لیے ایف آئی اے افسر کی جانب سے 3 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اداکارہ کی جانب سے شیئر کردہ آڈیو کالز میں نعمان نامی شخص کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ان کی اور نادیہ حسین کے شوہر عاطف محمد خان کی آپس میں ڈیل ہو چکی ہے، اب اداکارہ انہیں پیسے فراہم کریں تو ان کے شوہر کو چھڑوانے کے لیے انتظامات کیے جائیں۔ جس کے جواب میں اداکارہ کہتی ہیں کہ ان کی شوہر سے ملاقات کروائی جائے تاکہ وہ معلوم کر سکیں کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے لینی ہے، کیوں کہ ان کے پاس اتنے پیسے موجود نہیں ہیں۔
کال کرنے والے شخص نے نادیہ حسین سے کہا کہ یہ بات آپ کے اور میرے درمیان رہنی چاہیے۔ نادیہ حسین نے ایف آئی اے افسر کا دعویٰ کرنے والے شخص کے موبائل فون نمبر اور ان کی واٹس ایپ پروفائل کی تصاویر بھی شیئر کی۔
یاد رہے کہ نادیہ حیسن کے شوہر عاطف خان پر کرپشن کے الزام کے تحت ایف آئی اے میں مقدمہ درج ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی بینک کے ساتھ 70 کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے، ملزم کی جانب سے 80 ملین کے کمپنی فنڈز کو ذاتی ٹریڈنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی شکایت پر تحقیقات کے بعد عاطف احمد کو گرفتار کیا گیا ہے، ملزم کارپوریٹ فنانشل فراڈ کے ذریعے کمپنی فنڈز کی خورد برد میں ملوث ہے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم نے تھرڈ پارٹی کے 654 ملین غیرقانونی طور پر حاصل کیے، کمپنی فنڈز سے انہیں ہائی مارک اپ کے ساتھ ادائیگی کی گئی۔
مزیدپڑھیں:سام سنگ گلیکسی نے نیا ماڈل ایف 16 متعارف کردیا، قیمت کیا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نادیہ حسین نے ایف ا ئی اے ایف آئی اے کی جانب سے انہوں نے کے شوہر کیا گیا کے لیے تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.