نواز شریف سے ذاکر نا ئیک کی ملاقات ، امہ کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
سندر (نامہ نگار) معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نواز شریف کی دعوت پر جاتی امراء پہنچے جہاں ان کی نواز شریف سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، ملاقات میں دینی موضوعات، بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی عالمی سطح پر دینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام کی تبلیغ اور تفہیم میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک مختصر قیام کے بعد جاتی امراء سے واپس روانہ ہوگئے جبکہ ان کی آمد اور ملاقات کو سیاسی و مذہبی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نواز شریف
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932