کے پی کے: ضلعی سطح پر جدید آلات سے لیس اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکنیک ٹیمیں بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
— فائل فوٹو
خیبر پختون خوا میں ضلعی سطح پر جدید آلات سے لیس اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکنیک ٹیمیں بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس تھانوں اور چیک پوسٹوں کو محفوظ بنانے کے لیے 1.3 ارب روپے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں تھانوں اور چیک پوسٹوں کی تعمیر کے منصوبوں کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
پولیس کے لیے نائٹ وژن گوگلز، اسنائپرز اور دیگر آلات کے لیے72 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں پولیس افسران کی تنخواہیں بلوچستان اور پنجاب پولیس افسران کی تنخواہوں کے برابر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وزیرِاعلیٰ خیبرپختون خوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس کو ہر لحاظ سے مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے، پولیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔