ملک کی صورتحال تشویشناک ہے، گریٹر ڈائیلاگ شروع کیا جائے، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
لاہور:
جماعت اسلامی نے ملک کی صورت حال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے گیرٹر ڈائیلاگ شروع کرنے کا مطالبہ کردیا۔
جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ سے جاری اپنے پیغام میں حافظ نعیم نے کہا کہ گریٹر ڈائیلاگ کا آغاز کر کے آزاد و خود مختار اور جامع پالیسی ترتیب دی جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 14اپریل کو اسلام آباد میں بلوچستان کے تما م اسٹیک ہولڈرز کی کانفرنس ہوگی، جس میں چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ بلوچستان میں عوامی اعتماد سازی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، قومی انتخابات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، فارم47کے بجائے فارم 45کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔