خیبر پختونخوا کو کیش لیس کرنے کا فیصلہ، ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
اس انقلابی اقدام کے تحت تمام کاروباروں کے لیے لازمی ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد مالی شفافیت کو فروغ دینا، نقدی پر انحصار کم کرنا، اور کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو کیش لیس خیبر پختونخوا اقدام کے فوری اور مؤثر نفاذ کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس ضمن میں چیف سیکرٹری کو ایک ہدایت نامہ جاری بھی کیا گیا ہے۔ اس انقلابی اقدام کے تحت تمام کاروباروں کے لیے لازمی ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد مالی شفافیت کو فروغ دینا، نقدی پر انحصار کم کرنا، اور کاروباری ماحول کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف خیبر پختونخوا کی معیشت ڈیجیٹل دور میں داخل ہوگی بلکہ اس اقدام سے معاشی ترقی، ٹیکس کمپلائنس، اور فِن ٹیک سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام ممکن ہوگی، اور خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا کیش لیس صوبہ بننے کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس اقدام سے خیبر پختونخوا جدید دور کے ادائیگی سسٹم کی دوڑ میں باقاعدہ شامل ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔