افغانستان دشمن نہیں، اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، کیوں لڑائی مول لے رہے ہیں، عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
راولپنڈی(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گراف نکال کر دیکھیں دہشتگردی 2021 تک کم ترین ہو گئی تھی اور 2022 میں پھر بڑھنا شروع ہوئی، افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، آپ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مینوئیل کے مطابق بشری بی بی اور بانی کو آدھا، آدھا گھنٹہ فیملیز اور پھر آپس میں ملاقات کرنی چاہیے، یہ مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹہ کی ملاقات بنتی ہے لیکن کرائی 30 منٹ جاتی ہے، ہم نے احتجاجا آج ملاقات 45 منٹ تک کی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ انھیں اخبار نہیں مل رہا اور ٹی وی بھی بند ہے، وہ بے خبر تھے، ہم نے انھیں اے پی سی کے بارے میں بتایا،بولے اسی لئے میرا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا۔بانی پی ٹی آئی نے کہا میری اجازت بغیر پارٹی والے اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر سکتے۔
قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کے معاملے پر صوبائی حکومتوں سے جواب طلب
علیمہ خان نے کہا کہ بچوں سے بھی ان کی فون پر بات نہیں کروائی گئی، نہ ان کے ذاتی معالج سے ان کا طبی معائنہ کروایا گیا، عدالت سے اجازت لے رکھی ہے کہ ڈاکٹر ثمینہ نیازی سے بانی کے دانتوں کا معائنہ کروایا جائے، یہ ہر طریقے سے تنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مشرف نے جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا تو کلثوم نواز کو جیل میں نہیں ڈالا تھا، لیکن بانی کے ساتھ اہلیہ کو جیل میں رکھا تاکہ ان پر دبا پر سکے۔عمران خان نے کہا کہ ملکی کی سالمیت، آزادی، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوں، اگر یہ ان چیزوں کے لئے مجھے میں رکھیں گے تو میں تیار ہوں، اگر یہ سمجھتے ہیں انکے ان حربوں سے میں ٹوٹ جاں گا تو یہ انکے غلط فہمی ہے، یہ جو مرضی کرلیں میں اپنے اصول سے نہیں ہٹوں گا۔
انتہائی جدید طریقے سے منشیات فروش کرنے والا شخص لاہور سے پکڑا گیا
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کیسسز التوا میں رکھے گئے،ملاقاتوں پر پابندی لگا رہے ہیں، اس وقت پاکستان میں کوئی قانون کام نہیں کر رہا ہے، کس کی مرضی چل رہی ہے یہ آپ کو اور ہمیں پتا ہے، سب کو پتا ہے پاکستان بدل چکا ہے، ہم مضبوط کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی اللہ سے نہ امید نہیں ہوئے، پاکستانیوں کو ملک اور اس کی سالمیت کے دعا کرنی چاہیئے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی میری اجازت سے قومی سلامتی کمیٹی میں جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ گراف نکال کر دیکھیں سب سے دہشتگردی 2021تک کم ہو گئی تھی اور 2022میں پھر بڑھنا شروع ہوئی، افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، آپ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ، حویلی میں سے کتنا گوشت برآمد کر لیا گیا؟ حیران کن انکشاف
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خان نے کہا نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔