امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے USAID (یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ) کو بند کرنے کے فیصلے کو روک دیا۔ عدالت نے ایلون مسک اور ڈپارٹمنٹ فار گورنمنٹ ایفیشنسی (Doge) کی کوششوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

جج تھیوڈور چوانگ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ USAID کو بند کرنے کی کارروائیاں غیر آئینی ہو سکتی ہیں اور فوری طور پر ادارے کے ملازمین کو دوبارہ کام پر بحال کرنے کا حکم دیا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جبUSAID کے ملازمین نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ایلون مسک کا حکومتی اداروں پر کنٹرول غیر قانونی ہے کیونکہ انہیں نہ تو سرکاری طور پر کوئی عہدہ دیا گیا اور نہ ہی امریکی سینیٹ نے ان کی تقرری کی منظوری دی۔

ٹرمپ حکومت نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 90 دن کے لیے تمام غیر ملکی امداد پر پابندی عائد کی تھی، جس کے تحت USAID بھی متاثر ہوا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد USAID کے 80 فیصد سے زائد منصوبے بند ہونے کے باوجود مزید کٹوتیوں پر پابندی لگ گئی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے عدالتی فیصلے کو "انصاف کا قتل" قرار دیتے ہوئے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا۔

یہ فیصلہ ٹرمپ حکومت کے لیے ایک اور قانونی دھچکا ہے، کیونکہ اسی ہفتے ایک اور وفاقی جج نے وینزویلا کے مبینہ گینگ ممبرز کی ملک بدری روک دی تھی، جس پر ٹرمپ نے جج کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل