دہشتگردی اور فتنے کے خلاف سب کو یک زبان ہو کر ریاست کے ساتھ ہونا چاہیے، چیف خطیب کے پی مولانا طیب قریشی
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
معروف عالم دین و چیف خطیب خیبر پختونخوا مولانا طیب قریشی نے رمضان المبارک کے دوران دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور علما کو نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے دہشتگردوں اور فتنہ پھیلنے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہئے اور اس میں ہر مکتبہ فکر اور طبقے کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا طیب قریشی نے ماہ رمضان کی اہمیت اور ملک کی موجودہ صورت حال پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان نیکیاں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اور اس ماہ مساجد آباد ہوتی تھیں لیکن افسوس کی بات اس مبارک ماہ میں بھی علما کو نشانہ بنایا بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کے معاملے پر اگر مگر کی گنجائش نہیں، دنیا کو افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہوگا، بلاول بھٹو
کہا کہ اختلاف رائے کا ہر کسی کو حق ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مساجدوں پر حملہ کیا جائے۔ بے گناہ لوگوں کی جانیں لی جائیں۔ مولانا طیب قریشی نے کہا کہ ملک میں جاری دہشتگردی کی لہر پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ا س کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔ اور اس میں سیاسی ورکرز سے لے مسجد کے امام تک سب کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
مولانا طیب قریشی نے کہا پاک فوج ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دے رہی ہے۔ ان کی قربانیوں کی برکت سے سازشوں کے باوجود بھی اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے اور ایٹمی قوت ہے۔ پوری قوم کو فوج اور ریاست کی پالیسیوں پر لبیک کہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کیا کہا ؟ تفصیلات کے لیے ویڈیو دیکھیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک فوج چیف خطیب خیبر پختونخوا حملہ خیبر پختونخوا دہشتگرد مولانا طیب قریشی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج چیف خطیب خیبر پختونخوا حملہ خیبر پختونخوا دہشتگرد مولانا طیب قریشی مولانا طیب قریشی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔