برطانیہ جانے والے مسافروں کو کونسی بڑی خوشخبری ملنےوالی ہے ؟ جانیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
برطانیہ جانے والے مسافروں کو کل بڑی خوشخبری ملنے کا امکان ہے، جس سے مشکلات میں ریلیف ملے گا۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں پی آئی اے سمیت پاکستانی ایئرلائنز پر 5 سال سے لگی پابندی کے معاملے پر برطانوی ایئر سیفٹی کمیٹی کا اہم اجلاس کل کو ہوگا۔کمیٹی پی آئی اے سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز کے کیس پر غور کرے گی ، سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے کل برطانوی ایئرسیفٹی کمیٹی پاکستانی ایئر لائنز پر پابندی ہٹادے گی۔
حکام کا کہنا تھا کہ یورپ کے بعد کل برطانیہ میں بھی پاکستانی ایئرلائنز کی بحالی کا امکان ہے۔خیال رہے کہ جون 2020 میں یورپ اور برطانیہ نے پی آئی اے کی کمرشل پروازوں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔اس پابندی کے محرکات میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والا حادثہ شامل تھا جس کے بعد اس وقت کے وزیر ہوابازی نے پارلیمنٹ میں یہ بیان دیا تھا کہ پی آئی اے نے جعلی لائسنس پر پائلٹ بھرتی کر رکھے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال یورپی یونین کی جانب سے پابندی ختم ہونے کے بعد 10جنوری کو قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی پہلی پرواز ساڑھے چار سال بعد پیرس کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔