وفاق کے بعد پنجاب حکومت نے بھی عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رواں رمضان المبارک 29 دنوں کا ہوگا جبکہ عید الفطر 31 مارچ کو منائے جانے کا امکان ہے، ملک میں 30 مارچ کی شام عیدالفطر کا چاند نظر آنے کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت کے بعد پنجاب حکومت نے بھی عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان کر دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق عید الفطر پر 3 چھٹیاں ہوں گی، نوٹیفکیشن کے مطابق 31 مارچ (بروز پیر) سے 2 اپریل (بروز بدھ) تک عیدالفطر کی تعطیلات ہوں گی۔
پنجاب حکومت کے مطابق عید کی چھٹیوں کے حوالے سے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو فالو کیا گیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ روز ماہرین فلکیات کی جانب سے رمضان المبارک 29 روز اور عید الفطر 31 مارچ کو ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رواں رمضان المبارک 29 دنوں کا ہوگا جبکہ عید الفطر 31 مارچ کو منائے جانے کا امکان ہے، ملک میں 30 مارچ کی شام عیدالفطر کا چاند نظر آنے کا امکان ہے، غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 26 گھنٹے ہوگی اور چاند نظر آنے کے امکانات واضح ہونگے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 30 روزے پورے ہونے کی صورت میں عید الفطر یکم اپریل (بروز منگل) کو ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماہرین فلکیات نے کا امکان ہے پنجاب حکومت عید الفطر کے مطابق
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ