بدصورت ترین سمجھی جانے والی بلوب فش بہترین مچھلی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
نیوزی لینڈ کی مچھلی بلوب فش نے سال 2025 کی فش آف دی ایئر کا مقابلہ جیت لیا۔ اس نسل کو کبھی ’دنیا کا بدتصورت ترین جانور‘ قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل کی شارک مچھلیاں بھی کوکین کی شوقین
ماؤنٹین ٹو سی کنزرویشن ٹرسٹ نے بلوب فش کی جیت کا اعلان کیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ گہرے پانی کے دباؤ سے چھٹکارا پانے کے بعد اپنی غیر معمولی شکل کی وجہ سے مشہور بلوب فش نے تقریباً 300 ووٹ زیادہ لے کر کامیابی حاصل کی۔
فش آف دی ایئر مقابلے میں عوام نے ووٹ دیا۔ اس کا مقصد نیوزی لینڈ کی مقامی آبی حیات کے تحفظ کو اجاگر کرنا اور فروغ دینا تھا۔
ماؤنٹینز ٹو سی کنزرویشن ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ سال 2025 میں مچھلی کے لیے 5،583 ووٹ ڈالے گئے جو سنہ 2024 کے 1۔021 ووٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔
بلوب فش کی توجہ حاصل کرنے کی مہم کی قیادت مور ایف ایم ڈرائیو کی میزبان سارہ اور فلنی نے کی تھی۔
مزید پڑھیے: ایک مچھلی جو بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی کا باعث بن گئی
منتظمین نے کہا کہ ہمارے پاس بہت زیادہ مچھلیاں تھیں تاہم بلوب فش سمندر کی تہہ پر صبر و تحمل سے بیٹھی ہوئی تھی اور اس نے مقابلہ جیت لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مچھلی کو ساری زندگی ہراساں کیا جاتا رہا۔
اس سے قبل سنہ 2013 میں برطانیہ کی بدصورت جانوروں کے تحفظ کی سوسائٹی کی جانب سے منعقد ہونے والے ایک مقابلے میں بلوب فش کو دنیا کا بدصورت ترین جانور قرار دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: جاپان میں موٹرسائیکل کے سائز کی مچھلی کتنے ین میں نیلام ہوئی؟
نیوزی لینڈ کی ٹاپ 10 مچھلیوں میں لانگ فن ایل، ٹونا، وہیل شارک، بڑے بیل والے سمندری گھوڑے، گریٹ وائٹ شارک، لیمپری اور پیہارا شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بدصورت ترین جانور بلوب فش بلوب فش سال 2025 کی مجھلی نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوب فش نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ بلوب فش
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔