صفحہ ہستی سے مٹ جانیوالی رومی دور کی قدیم بستی دریافت
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
بلغاریہ میں ٹرانزٹ گیس پائپ لائن کے لیے کام کرنے والے عملے نے غیر متوقع طور پر رومی دور کی بستی دریافت کرلی۔
بلغارین جرنل آف آرکیالوجی میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے سریڈنا گورا پہاڑیوں کے مغربی حصے میں واقع 4400 مربع میٹر رقبے پر پھیلی بستی کی نشان دہی کی۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے فوری طور پر تحقیقات میں شامل ہوئے اور موقع سے قدیم برتنوں کے ٹکڑے، سکّے اور قدیم رومی دور (1500 سال سے زیادہ پرانے) سے تعلق رکھنے والی دیگر چیزیں دریافت کیں۔
ماہرین نے دو عمارتوں کی کھدائی کی جن کی دیواریں گارے کی اینٹوں سے بنی تھیں۔ اس دوران ان کو چھت پر لگے ٹائل کے ٹکڑے اور ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے گڑھے بھی دریافت ہوئے۔
ان دو میں سے ایک ڈھانچہ اندازاً 30 فٹ لمبا تھا اور اس میں تین کمرے تھے جبکہ دوسری عمارت میں صرف دو حصے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔