طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، آغا حسن بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اپنے بیان میں بی این پی رہنماء حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں پانچواں آپریشن زور و شور سے جاری ہے۔ بلوچوں پر ظلم کرکے نفرتوں کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے سعیدہ بلوچ اور ان کے بہن کی گرفتاری، پروفیسر نوشین قمبرانی کے گھر پر چھاپے، ناصر قمبرانی و ان کے خاندان کے کئی افراد، بیبرگ بلوچ، ڈاکٹر الیاس بلوچ اور حمل بلوچ کو گرفتار و لاپتہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ثابت کر دیا کہ بلوچ سے اب وہ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں۔ لاشوں کے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان کا بیان باعث افسوس ہے۔ انہیں یاد رکھا چاہئے کہ اقتدار چند دنوں کی ہے۔ جارحانہ رویہ اختیار کرنا شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پانچواں آپریشن زور و شور سے جاری ہے۔ بلوچوں پر ظلم کرکے نفرتوں کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں۔ جنرل مشرف نے بھی اسی طرز پر آپریشن شروع کیا۔ اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ حکمران اب بھی بزور طاقت معاملات چلانا چاہتے ہیں۔ قوموں کو طاقت، ظلم و جبر سے ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ ان کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں دو افراد کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ بلوچستان کے معاملات کو طاقت ہی سے حل کیا جائے۔ ایسے افراد کے مشوروں سے بلوچستان اس نہج تک پہنچ چکا ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل کر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس وقت جنرل باجوہ نے حامی بھری تھی کہ بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگ جب کہتے تھے کہ بلوچستان میں کوئی لاپتہ نہیں۔ انہی کی غلط و بلوچ دشمن پالیسیوں کی وجہ سے آج بلوچستان کا کوئی طبقہ فکر کوئی گھر محفوظ نہیں، خوف و ہراس ماحول ہے۔ سکیورٹی فورسز چادر و چار دیواری کی پامالی کے ساتھ خواتین و بچوں کو اذیتوں سے دوچار کر رہے ہیں۔ پارٹی قائد سردار اختر مینگل نے علی اصغر بنگلزئی، نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد سے اب تک بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کیا۔ مگر افسوس مقتدرہ کو مخبروں نے غلط رپورٹس دے کر بلوچستان کے معاملات اس نہج تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمہ اصول ہے کہ قوموں کے دلوں کو بزور طاقت نہیں جیتا جا سکتا۔ بی این پی نے ہمیشہ حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھائی، مگر فارم 47 کے حکمرانوں کی انا، ہٹ دھرمی برقرار رہی۔
آغا حسن بلوچ نے کہا کہ آج عملاً مارشل لاء نافذ اور حالات بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔ حکمران جذباتی تقاریر کرکے بلوچوں کو مشتعل کر رہے ہیں، تاکہ بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکے۔ بلوچستان کے حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکے ہیں۔ حکمران بلوچ کے خون سے اپنی انا کو تسکین دینے پر تلے ہیں۔ پارٹی نے ہمیشہ حقیقی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرکے بلوچستان معاملات کو حل کرنے پیغامات دیئے۔ بی این پی نے ہر فورم پر یہ موقف اپنائے رکھا کہ بلوچستان کے مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے۔ طاقت اور انسانی حقوق کی پامالی سے دوریوں اور نفرتوں میں اضافہ ہوگا۔ فارم 47 کے حکمران ضد، انا، ہٹ دھرمی، لاشوں سے اپنی حکومت کو دوام دینا چاہتے ہیں۔ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان میں کہ بلوچستان بلوچستان کے نے کہا کہ حسن بلوچ کہ بلوچ کیا جا
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔