اے سی سی اجلاس ڈھاکا میں منعقد کرنے پر بھارت کا اعتراض، وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کا اجلاس ڈھاکا میں رکھنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کسی اور جگہ منتقل کرنے کی درخواست کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی نے اے سی سی کا اجلاس ڈھاکا سے منتقل کرنے کا لیٹر لکھا ہے جس میں موقف اپنایا ہے کہ بنگلا دیش کے سیاسی حالات کی وجہ سے بھارتی وفد کا ڈھاکا جانا مناسب نہیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اے سی سی میٹنگ کسی دوسری جگہ منتقل نہ کی گئی تو بھارتی بورڈ میٹنگ سے دستبردار ہونے پر غور کر سکتا ہے۔
اس سے قبل، بھارتی بورڈ بنگلا دیش کے ساتھ باہمی سیریز بھی ملتوی کر چکا ہے، جس میں انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ کے باعث بھارتی حکومت نے دورہ ملتوی کرنے کا کہا ہے۔
بھارت نے ایشیا کپ کے لیے 3 وینیوز دبئی، ابوظبی اور شارجہ کا انتخاب کیا جس کے لیے حکومتی اجازت درکار ہے۔
واضح رہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس محسن نقوی کی صدارت میں 24جولائی کو ڈھاکا میں ہونا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے سی سی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔