حکومت نے ساڑھے 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کردیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے ساڑھے 3 لاکھ ٹن چینی کی درآمد پر تمام درآمدی ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ دے دیا۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں چینی کی دستیابی، معیار، قیمتوں میں استحکام اور درآمدی طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں چینی کی ممکنہ قلت اور غیر ضروری قیمتوں میں اضافے سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ْاجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چینی کی درآمد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت، معیار اور حکومتی کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔
مارکیٹ میں استحکام اور سستی و معیاری چینی کی فراہمی کے لیے فوری درآمدی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، اس سسلے میں پہلے 2لاکھ ٹن پھر دوسرا ٹینڈر 1.
حکومت نے اس عمل کو سہل بنانے کے لیے تمام درآمدی ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ دے دیا ۔
آج بروز جمعرات 10 جولائی سونا کی فی تولہ قیمت کیا ہوگی؟جانئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔