توشہ خانہ ٹو کیس کی ساڑھے 6گھنٹے طویل سماعت، دو وعدہ معاف گواہان پر جرح مکمل
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
توشہ خانہ ٹو کیس کی ساڑھے 6گھنٹے طویل سماعت، دو وعدہ معاف گواہان پر جرح مکمل WhatsAppFacebookTwitter 0 15 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی اڈیالہ جیل میں ساڑھے 6 گھنٹے طویل سماعت ہوئی۔ وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی اور سابق وزیراعظم کے پرسنل سیکرٹری انعام شاہ پر وکلائیصفائی نے جرح مکمل کر لی ۔ آئندہ سماعت پراستغاثہ کے دو مزید گواہان کو بیان ریکارڈ کروانے کیلئے طلب کر لیا گیا۔
سابق وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیر محمد احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان سترہ ستمبر کو بیان قلمبند کروائیں گے۔ اہم مقدمے میں مجموعی طور پر 16گواہان کے بیانات ریکارڈ کر کے جرح بھی مکمل کی جا چکی۔ کیس کی سماعت کیلئے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا ۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں اور بیرسٹر علی ظفر کمرہ عدالت میں موجود تھے، دو گواہوں پر جرح مکمل ہونے کے بعد اسپیشل جج سنٹرل شاہ رخ ارجمند نے سماعت بدھ 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیرِاعظم کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ، اسرائیل کی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِاعظم کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ، اسرائیل کی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال چیئرمین سی ڈی اے سے قازقستان کے سفیر یرژان کیستافین کی ملاقات، شہری تعاون، ثقافتی تبادلے اور ماحول دوست منصوبوں پر تفصیلی گفتگو وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر کو کیا تحائف ملے، توشہ خانہ کا 6 ماہ کا ریکارڈ جاری نیپال کی نئی عبوری وزیراعظم کا کرپشن ختم کرنے اور مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کا اعلان چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، غیر قانونی کار پارکنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس اپنانے کا فیصلہ میچ ریفری کیخلاف آئی سی سی کو دیر سے خط، پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ معطلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔