Islam Times:
2026-07-24@06:29:45 GMT

موضوع: موجودہ زمانے میں کربلاء کے اثرات اور مطابقت

اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںپروگرام دین و دنیا
موضوع: موجودہ زمانے میں کربلاء کے اثرات اور مطابقت
مہمان: حجہ الاسلام و المسلمین سید ضیغم رضوی
میزبان: محمد سبطین علوی
موضوعات گفتگو:
کربلاء کے اخلاقی اثرات
کربلاء کے سیاسی و اجتماعی اثرات
کیا مجالس میں حالات حاضرہ کو بیان کرنا چاہیئے؟ اور کیوں
خلاصہ گفتگو:
کربلا محض ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ *زندگی کا ایک مکمل منشور* ہے جو آج بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب نے انسانیت کو ایک ایسا درس دیا جو *زندگی کے تمام اجتماعی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر محیط* ہے۔ آپ کا قیام قرآنی حکم *"امر بالمعروف اور نہی عن المنکر"* کی عملی تفسیر تھا۔ کربلا ایثار، قربانی، اخلاص اور خاندانی اقدار جیسے *اعلیٰ اخلاقی نکات* کو اجاگر کرتی ہے۔
 
کربلا *باطل کے سامنے نہ جھکنے اور سربلند رہنے کا درس* دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکیں اس سے *مشعل راہ* حاصل کرتی ہیں، جیسا کہ مہاتما گاندھی نے مظلومیت میں فتح کا سبق کربلا سے سیکھا۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دین پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، بھلے اس کے لیے ہر قربانی دینی پڑے۔ حالات حاضرہ کو کربلا کی روشنی میں دیکھنا اور عدل کا قیام کرنا امام کے مقصد کو زندہ کرنا ہے۔ حقیقت میں، کربلا *ہر تاریکی میں ہدایت کا چراغ* ہے جو رہتی دنیا تک روشنی بکھیرتا رہے گا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کربلاء کے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن