پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے مقاصد اور مفادات سے آگاہ ہیں :وزیرداخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
(اویس کیانی)وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف منفی مہم چلانے والوں کا علم ہے،صدر سے استعفیٰ لینے یا آرمی چیف کے صدر بننے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت اور عسکری قیادت کے درمیان گہرے اور باوقار تعلقات ہیں، پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے مقاصد اور مفادات سے آگاہ ہیں ،آرمی چیف صرف پاکستان کی مضبوطی اور استحکام پر توجہ کررہے ہیں،من گھڑت بیانیے پھیلانے والے جو چاہیں کر لیں، پاکستان کو دوبارہ مضبوط بنائیں گے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنیوالوں کا بیرونی دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ ہے،ملک دشمن پروپیگنڈے کیخلاف ہر ممکن اقدام اٹھایا جائیگا۔
لاہور میں 229 ٹریفک حادثات؛ 280 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔