آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان زیرک ،دوراندیش اور مدبر سیاسی رہنماء تھے ۔سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان کی برسی پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ آزادکشمیر کے دونوں بڑے عہدوں پر فائز ہوئے اور متانت کے ساتھ اپنا عرصہ مکمل کیا ۔انہوں نے کہا کہ سردار محمد عبد القیوم خان نے ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور جہاد کشمیر میں عملی طور پر حصہ لیا ،وہ ایک علمی اور ادبی شخصیت بھی تھے اور مسئلہ کشمیر پر ان کی خاص گرفت تھی ۔انہوں نے کہا کہ ان کی نمایاں خصوصیت الحاق پاکستان پر ان کا کاربند رہنا تھا انہوں نے تمام عمر الحاق پاکستان کی ترویج میں گزارا ،پاکستان کے ساتھ ان کی محبت دیدنی تھی ،انہوں نے بین الاقومی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ،یہ ان کی قد آور شخصیت تھی کہ عالمی رہنماء ان کی بات سنتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے آزادکشمیر میں تعلیمی شعبے پر خاص توجہ دی اور کئی ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔

Post Views: 10.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو